![]() |
Is Power of Attorney Valid after death in Pakistan? |
In this article, I am going to
explain about the validity of a Power of Attorney for property, after the death
of Principal or Attorney Holder of Power of Attorney.
Some Power of Attorneys become invalid
on the death of Principal or Attorney Holder however, some Power of Attorneys remain
valid even after death of Principal or Attorney Holder.
Power of Attorney becomes invalid on death of Principal or Attorney Holder
Although, generally, due to staying
abroad or being busy, peoples give Power of Attorney to their Agent / Attorney Holder with the
permission to sell out their property and in such kind of Power of Attorney,
the Property mentioned in Power of Attorney is not actually sold to Attorney Holder
because the purpose of this Power of
Attorney is just to sell the property
through Attorney Holder and the amount
received by selling this property is required to be given by Attorney Holder to
the Principal.
This Kind of Power of Attorney is revocable and may be revoked
due to many situations like, the Principal of Power of
Attorney himself can revoke the Power of Attorney at any time, for which a Deed
of Revocation of Power of Attorney is required to be executed. Such
kind of Power of Attorney can also becomes ineffective after the death of
Principal and or Attorney Holder. Hence, after the death of Principal, the
Attorney Holder is no more entitled to use the powers given in Power of
Attorney.
Irrevocable Power of Attorney (Irrevocable
GPA/ IGPA) is the power of Attorney which cannot be revoked by Principal. Even after
the death of Principal or Attorney Holder, this Power of Attorney does not
become invalid.
Power of Attorney does not become invalid even after death of Principal or Attorney Holder
Following things should be present
in an Irrevocable General Power of Attorney which remains valid even after
death of principal or Agent.
1.
The Attorney Holder should have interest in property
mentioned in Power of Attorney, like Attorney Holder has purchased the Property
from Principal and paid its price to the Principal but Registry / Transfer
could not be executed due to any reason.
2.
The contents of Power of Attorney should explain that
the property mentioned in Power of Attorney has been sold to Attorney Holder
and Principal has received its consideration.
3.
It is recommended that a separate Sale Agreement
should be executed between Principal and Agent, mentioning all the
detail of sale of property mentioned in Power of Attorney. .
4.
For registration of an Irrevocable General Power of
Attorney, the Taxes/duties applicable to Irrevocable GPA should
be paid to the Government as per prevailing rates.
اُردو میں معلومات:
اس آرٹیکل میں، میں مختار
نامہ کے مختار نامہ دہندہ یا مختار کی موت
کے بعد، جائیداد کے لیے مختار نامہ کی مئوثر
ہونے یا غیر مئوثرہونے کے بارے میں وضاحت کرنے جا رہا ہوں۔
کچھ مختار نامہ جات،
مختار نامہ دہندہ یا مختار کی موت پر ہی غیر مئوثر ہو جاتے ہیں تاہم، کچھ مختار
نامہ جات، مختار نامہ دہندہ یا مختار کی
موت کے بعد بھی مئوثر رہتے ہیں اور منسوخ نہیں ہوتے ۔
مختار نامہ دہندہ یا مختار کی موت پر مختار نامہ باطل ہو جاتا ہے۔
اگرچہ عام طور پر
بیرون ملک رہنے یا مصروفیت کی وجہ سے لوگ اپنے نمائندہ /ایجنٹ / مختار کو اپنی جائیداد فروخت کی اجازت کے ساتھ مختار
نامہ دیتے ہیں اور اس قسم کے مختار نامہ میں مختار نامہ میں درج جائیداد مختار کو در اصل فروخت نہیں کی
جاتی کیونکہ اس مختار نامہ کا مقصد مختار کے ذریعے صرف جائیداد فروخت
کرنا اور اس جائیداد کو فروخت کر کے اس سے
حاصل ہونے والی رقم مختار نامہ دہندہ کو دیناہوتاہے۔
اس قسم کے مختار نامہ کو منسوخ کیا جا سکتا ہے اور بہت سے حالات کی
وجہ سے یہ منسوخ یا غیر مئوثر ہو جاتا ہے جیسے کہ مختار نامہ دہندہ خود کسی بھی
وقت مختار نامہ کو منسوخ کر سکتا ہے، جس
کے لیے ابطال نامہ کی تحریر و رجسٹریشن ضروری ہے۔ . اس قسم کامختار
نامہ مختار نامہ دہندہ یا مختار کی موت کے بعد بھی غیر موثر ہو جاتا ہے۔ لہذا، مختار
نامہ دہندہ کی موت کے بعد، مختار، مختار
نامہ میں دیے گئے اختیارات کو استعمال
کرنے کا مزید حقدار نہیں رہتا ۔
ناقابل تنسیخ مختار
نامہ (Irevocable GPA/IGPA)وہ مختار نامہ ہے جسے مختار نامہ دہندہ خود منسوخ نہیں کر
سکتا اور نہ ہی یہ مختار نامہ ، مختار
نامہ دہندہ یا مختار کی موت کے بعد منسوخ یا غیر مئوثر ہوتا ہے ۔
مختار نامہ دہندہ یا مختار کی موت کے بعد بھی مختار نامہ غیر مئوثر یا منسوخ نہیں ہوتا
مندرجہ ذیل باتیں ایک
ناقابل تنسیخ جنرل مختار نامہ میں موجود
ہونی چاہئیں تاکہ مختار نامہ دہندہ یا مختار کی موت کے بعد بھی مختار نامہ قابل
عمل یا مئوثر رہے ۔
1۔ مختار کا مختار نامہ میں ذکر کی گئی جائیداد سے مفاد وابستہ ہونا چاہیے، جیسا کہ مختار
نے مختار نامہ دہندہ سے جائیداد خرید ی ہو
اور اس کی قیمت مختار نامہ دہندہ کو
ادا کر دی ہے ہولیکن کسی بھی وجہ سے رجسٹری / ٹرانسفر نہیں ہو سکی صرف مختار نامہ
ہی تکمیل کروایا گیا۔
2 ۔
مختار نامہ کے مندرجات میں یہ وضاحت کرنی
چاہیے کہ مختار نامہ میں مذکور جائیداد مختار
کو فروخت کر دی گئی ہے اور مختار نامہ دہندہ نے اس کی قیمت وصول کر لی ہے ۔
3 ۔ بہتر یہ ہے کہ مختار نامہ دہندہ اور ایجنٹ کے
درمیان علیحدہ جائیداد کی فروختگی کا معاہدہ تحریر کیا جائے، جس میں مختار نامہ میں ذکر کی گئی جائیداد کی فروخت کے حوالے سے
تمام تفصیلات درج ہوں۔
4 ۔
ایک ناقابل تنسیخ مختار نامہ کی رجسٹریشن
کے لیے، ناقابل تنسیخ مختار نامہ پر پر لاگو ٹیکسز/ڈیوٹیز کو موجودہ شرحوں کے
مطابق حکومت کو ادا کیا جانا چاہیے۔
(یاد
رہے کہ مختار نامہ پر اس کی نوعیت کے لحاظ سےٹیکسز/ ڈیوٹیز لاگو ہوتی ہیں )